کشور کشائی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کشور ستانی، تسخیر ملک کرنا۔ "میں ان تمام جنگوں کو مردود سمجھتا ہوں، جن کا مقصد محض کشور کشائی اور ملک گیری ہے۔"      ( ١٩٩٠ء، فاران، کراچی، اپریل، ١٥ )

اشتقاق

فارسی زبان سے مرکبی شکل کے ساتھ اردو میں داخل ہوا۔ جو فی الاصل ماخذ زبان میں ایک اسم 'کشور' کے بعد 'کشودن' مصدر سے مشتق صیغہ امر 'کا' بطور لاحقہ فاعلی لگا کر اس کے بعد 'ی' بطور لاحقہ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ تحریراً سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو"خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کشور ستانی، تسخیر ملک کرنا۔ "میں ان تمام جنگوں کو مردود سمجھتا ہوں، جن کا مقصد محض کشور کشائی اور ملک گیری ہے۔"      ( ١٩٩٠ء، فاران، کراچی، اپریل، ١٥ )

جنس: مؤنث